بنگلورو یکم فروری(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور جے ڈی ایس رہنما ایچ ڈی کمارسوامی کی طرف سے کرناٹک لیجس لیٹو کونسل میں چیر مین شپ کا عہدہ اپنی پارٹی کو ملنے کے عوض بی جے پی سے ہاتھ ملانے کے لئے رضامندی اور کرناٹک میں کسانو ں اورکمزور طبقات کیلئے نقصان کا سبب بننے والے انسداد گؤ کشی قانون کی تائید کرنے کے لئے ان کی پارٹی کے فیصلہ پر رکن اسمبلی وسابق وزیر ضمیر احمد خان نے شدید نکتہ چینی کی ہے۔
اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمارسوامی کرناٹک کے سب سے زیادہ موقع پرست سیاستدان بن چکے ہیں۔ کرناٹک میں 2006کے دوران کمارسوامی نے بہت اچھی حکومت چلائی اور اس وقت ان کے انتظا میہ کو ریاست بھر میں سراہا گیا لیکن اس کے بعد دوسری بار جب انہیں اقتدار 2018کے دوران ملا تو وہ اتنے موثر وزیر اعلیٰ نہ بن پائے۔ اس وقت انہوں نے ریاست کے انتظامیہ کوچلانے کے لئے کسی کو اعتماد میں نہیں لیا جس کی وجہ سے عوام میں ان کی مقبولیت گھٹ گئی۔
انہوں نے کہا کہ کمارسوامی ریاست کے ایسے کوئی بڑے لیڈر نہیں ہیں کہ ان کی بات کو ریاست بھر کے عوام تسلیم کرلیں گے۔ جنتادل(ایس) کا قیام سکیولر اصولوں کی بنیاد پر کیا گیا لیکن اب جے ڈی ایس کا سکیولر کردار باقی نہیں رہا اس لئے جے ڈی ایس کے نام سے سکیولر کا لفظ ہٹا دینا چاہئے۔ ریاست میں جے ڈی ایس کا اب کوئی وجود باقی نہیں رہا اور اسے وہ ایسی سیاسی قوت تسلیم نہیں کرتے کہ جس کو خاطر میں لایا جائے۔
کانگریس چھوڑ کر جے ڈی ایس میں شامل ہونے کے لئے کوشاں سابق مرکزی وزیر و رکن کونسل سی ایم ابراہیم پر نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں سدارامیا کی حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لئے جو قدم اٹھائے گئے اس کو سی ایم ابراہیم کیوں فراموش کر رہے ہیں۔ کرناٹک میں اقلیتوں کی ترقی کے لئے مخصوص بجٹ کا فنڈ صرف 120کروڑ روپے تھا اس کو بڑھا کر کانگریس حکومتوں نے 3100کروڑ روپیوں تک پہنچایا۔ ایک سینئر رہنما کا لحاظ کرتے ہوئے کانگریس نے سی ایم ابراہیم کو رکن کونسل بنایا اس وقت وہ خاموش رہے، اب ان کو اقلیتوں کی فلاح کا خیال آگیا ہے۔